Insights into simplifying train travel

عجب، منفرد، پراسرار اور سنسنی سے بھرپور گاؤں کی کہانیاں

سنسکرت زبان بولنے والوں کا انوکھا گاؤں

Muttur village in India

کرناٹک کے شموگا ضلع سے 10 کلو میٹر دور تُنگ دریا کے کنارے آباد متتورو گاؤں میں گزشتہ 32-33 سالوں سے سنسکرت زبان کے فروغ کے ذریعہ اپنی جڑوں کی طرف واپسی کا منفرد مہم جاری ہے۔ پہلے یہاں مقامی كننڑا زبان ہی بولی جاتی تھی لیکن -811980 کے آس پاس یہاں ہوئے لسانی تنازعہ کے بعد پےجاور مٹھ کے سوامی نے اس گاؤں کو سنسکرت بولنے والے لوگوں کے گاؤں کے طور پر تیار کرنے کا اعلان کیا۔ آج یہاں صرف سنسکرت ہی بولی جاتی ہے۔ سنکیتھی براهمن اکثریتی اس گاؤں کا بنیادی مقصد سنسکرت زبان کی تحفظ اور ترقی کرنا ہے۔ گاؤں کے بچے، بوڈھے، نوجوان اپنی روزمرہ کی زندگی میں بات چیت کے لئے سنسکرت زبان ہی استعمال کرتے ہیں۔ یہاں كوئی بھی آپ سے آپ کا نام ہندی، كننڑا اور انگریزی میں نہیں پوچھتا۔بھَوَت نام کِم’؟ یعنی آپ کا نام کیا ہے؟ وہیں یہاں کے گھروں کی دیواروں پر بھی سنسکرت میں لکھے جملہ دیکھے جا سکتے ہیں۔

کل یُگ میں یہاں دیکھنے کو ملتا ہے رام-راجیہ

Shani Shingapur Village in india

اپنے گھروں کو چوری ڈکیتی سے بچانے کے لئے آج جہاں پوری دنیا سی سی ٹی وی، سکیورٹی گارڈز اور شکاری کتوں پر منحصر ہیں وہیں مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آج بھی لوگ ایمان اور یقین کے بھروسے اپنے گھروں، گاڑيوں، قیمتی سامانوں کو بغیر کسی دروازے کے کھلے رکھ کہیں بھی چلے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ یہاں چوری جیسے واقعہ کا نہ ہونا ہے۔ مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے نیواسا تالكے میں بسا شنی شگناپور گاؤں بھارت کا ایک ایسا اکلوتا گاؤں ہے جہاں کے باشندے اپنے گھروں میں حفاظت کے لئے تالا نہیں لگاتے۔گاؤں کے گھروں میں صدر دروازہ پر دروازے بھی نہیں ہے۔ گاؤں والوں کا خیال ہے کہ شنی دیو خود یہاں وراجتے ہے اس لئے یہاں چوری کرنے کا حوصلہ كوئی نہیں کر سکتا۔

کالا جادو اور ڈائن، چڑیلوں کا گاؤں

Myong Village in India

گوہاٹی سے 40 کلومیٹر دور پووی توری وائلڈ لائف پارک کے قریب واقع ميونگ گاؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم کالے جادو کی زمین ہے۔ یہاں رائج کہانیوں کے مطابق اس جگہ کا نام ميونگ سنسکرت کے لفظ ‘مایا’ کے نام پر رکھا گیا تھا کیونکہ یہ ایک مایا نگری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انسان اچانک کھڑے کھڑے ہوا میں گم ہو جایا کرتے تھے یا پھر جانور بن جایا کرتے تھے۔ ساتھ ہی یہاں کے تانترک جادوگر اپنے منتر تنتر کی طاقت سے خطرناک جنگلی جانوروں کو بھی پالتو بنا لیا کرتے تھے۔ قدیم زمانے میں یہاں انسانوں کی بلی کی پریکٹس  کا رواج تھا۔ اس کے بھی ثبوت یہاں ملتے ہیں۔ وہی یہاں بنائے گئے ميوزیم میں آج بھی تنتر سادھنا اور آیوروید کتاب سے منسلک بے شمار شواہد کو سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ آج بھی مقامی لوگ یہاں بڑے پیمانے پر جادو-ٹونا، جھاڑ پھونک کرتے- کرواتے دیکھے جاتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ آج بھی اس جگہ کا طلسم ویسے ہی برقرار ہیں جیسے صدیوں پہلے تھا۔ وہیں اس جگہ کو اس راز اور عجیب کہانیاں اور عام لوگوں کی جاننے کی خواہش کی وجہ سے ایک خوبصورت سیاحتی مقام بنا دیا ہے۔ جہاں سیاحوں جنگل سفاری، ریور ٹورزم، نیچر ٹورزم، آركيلوجیكل ٹورزم، مذہبی سیاحت، بوٹنگ، کا مزہ لینے جاتے ہیں۔


Leave a Comment

Required fields are marked *