Insights into simplifying train travel

جانیے کس طرح انجینئر کی پہل سے بدلے گا ریلوے اسٹیشن کا نظم

جب کبھی ہم کسی ہندوستانی ریلوے اسٹیشن جاتے ہیں تو اکثر وہاں پھیلی گندگی، بے ترتیبی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اپنے فرائض کو چھوڑ کر ہم اس کا سارا الزام ریلوے محکمہ یا حکومت کے سرپر پرڈال دیتے ہیں۔ اگرچہ کچھ بیدار لوگ گندگی پھیلانے کی غلطی نہیں کرتے۔ لیکن شاید ہی ہم میں سے کوئی ہی ایسا ہو جس نے کبھی اس مسئلہ کے مستقل حل کے بارے میں سوچا ہو۔

ممبئی کے رہنے والے الیکٹریکل انجینئر گورنگ دماني بھی ممبئی کے کنگس سرکل ریلوے اسٹیشن سے آتے جاتے اسی مسئلہ سے روزانہ روبرو ہوتے تھے۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ریلوے کے سیکشن میں کئی عرضیاں بھی لگائیں لیکن انہیں مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ پھر ایک دن اچانک ریلوے محکمہ نے گورنگ کو ان کے مسئلہ کا جواب بھیجا۔ جواب

diehard indians team at king's circlerailway station

میں وزارت کے ذریعہ گورنگ سے ہی ریلوے اسٹیشن کی صاف صفائی، بے ترتیبی سے چھٹکارا دلانے کے لئے کوئی طریقہ نکالنے کو کہا۔ ریلوے کے ذریعہ اچانک ملی اس تجویز سے  گورنگ تھوڑے پریشان ہوئے لیکن جلد ہی انہوں نے اس مسئلہ پر کام کرنے کا پکا

فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کئی رضاکاروں کے ساتھ مل ایک سماجی تنظیم ڈائی هارڈ انڈین قائم کر دسمبر 2014 میں اسٹیشن کی صفائی کرنا شروع کر دیا۔ اپنی محنت، عزم مصمم اور لوگوں کے تعاون سے انہوں نے کچھ ہی مہینوں میں ممبئی کے کنگس سرکل ریلوے اسٹیشن کی صورت ہی بدل ڈالی۔

بنایا مستحکم منصوبہ:

Wall painting at king's circlerailway station

گورنگ اور ان کی پوری ٹیم نے صفائی سے پہلے پورے ریلوے اسٹیشن کا معائنہ کر منظم طریقے سے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے سب سے زیادہ گندے حصوں کو تلاش کر وہاں سے سب سے پہلے گندگی ہٹائی۔ صفائی کا کام ختم کر گورنگ نے ریلوے اسٹیشن کے ان حصوں کی نشاندہی کی جہاں روشنی کا صحیح انتظام نہیں تھا۔ اس عمل میں انہوں نے اووربرج پر 29 بڑے هاءيلوجن لگاکر وہاں روشنی کی فراہمی کرائی۔ ادارہ نے ریلوے اسٹیشن میں ہریالی کے لئے پورے اسٹیشن میں سینکڑوں ہرے بھرے پھولوں والے گملے لگائے۔

ایسے کیا مسافروں کو بیدار:

مسافروں کے آتے جاتے دیواروں پر تھوکنے کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ادارہ نے کچھ مصوروں کے ساتھ مل کر اسٹیشن کی تمام دیواروں پر خوبصورت پینٹنگ کروا کرانہیں دلچسپ بنوا دیا۔ بیداری پیدا کرنے کے لئے تنظیم نے دیواروں پر کئی بینر- پوسٹر لگا کر لوگوں کو گندگی پھیلانے سے روکنے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں پہلے کے مقابلے میں ہونے والی گندگی وغیرہ کے مسائل میں کافی حد تب کمی آئی۔ ساتھ ہی تنظیم نے کچرا حل کے لئے اسٹیشن میں بہت سے کوڑے دان بھی لگا دئے.۔ بعد میں ان کے اس نیک کام کو کئی اداروں اور لوگوں کا ساتھ ملا۔ جس سے ان کا کام جلد ہی پورا ہو گیا۔ اب تک کل تقریبا 700 لوگ اس مہم میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں۔ یہاں سے گزرنے والے کئی لوگ اپنی مرضی سے اس ادارے کو ضرورت کی چیزیں اور روپے وغیرہ عطیہ کے طور پر دیتے رہتے ہیں۔

کرنا پڑا کئی چیلنجوں کا سامنا:

Dustbin facility at king's circle railway station

گورنگ اور ان کے ادارے کے لئے اس پورے کام کو کر پانا آسان نہیں تھا۔ کام کے دوران انہیں کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں روزانہ ریلوے اسٹیشن آنے جانے والے مسافروں کی بھیڑ کو اس پورے مہم سے جوڑنا، انہیں اسٹیشن کی صاف صفائی کے لئے حوصلہ افزائی کرنا، ریلوے محکمہ کے حکام سے تال میل برقرار رکھنا، لوگوں کے ذریعہ بینر اور پوسٹر پھاڑ دیا جانا اور آئے دن سامانوں کی چوری ہونا جیسے مسائل اہم تھے۔ ادارے کے ذریعہ کوڑے دان وغیرہ کو چین سے باندھ کر رکھا جانے لگا۔

تنظیم ہی کر رہی ہے نگرانی:

Message to train travelers by gourang damani's team

کنگس سرکل ریلوے اسٹیشن کی صفائی کی ذمہ داری فی الحال گورنگ دماني کے ادارے ڈائی هارڈ انڈین کے پاس ہی ہے۔ جس کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن کی صفائی اور خوبصورتي برقرار ہے۔ تنظیم فی الحال اس کے علاوہ سائن ، ماهم، رے روڈ ریلوے اسٹیشن کو گود لے کر ان کے دوبارہ بہتر بنانے کا کام کر رہی ہے جہاں سینکڑوں کارکن تن من دھن سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مرکزی ریلوے کے ذریعہ جہاں اس ادارے کو ان کے کام کے لئے حوصلہ افزائی کی جا چکی ہے۔ وہیں وزیر اعظم مسٹر

نریندر مودی بھی اپنے ریڈیو پروگرام من کی بات میں ان کے ادارے کے کام کی تعریف کر چکے ہیں۔

گورنگ دماني کی ایک پہل سے جہاں ممبئی کے کنگس سرکل ریلوے اسٹیشن دوبارہ بہتر ہوگیا۔ وہیں اسٹیشن سے روز آنے جانے والے مسافروں کے لئے بھی اب وہ اسٹیشن باقی ریلوے اسٹیشنوں کے مقابلے میں پسندیدہ جگہ بن گیا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے آس پاس استعمال ہونے والی چیزوں، جگہوں کو اپنا مان کر ان کی صاف صفائی، دیکھ بھال اور حفاظت کی ذمہ داری کے لئے کسی اور پر انحصار ہونے کی بجائے خود اس کا ذمہ اٹھا لیں۔


Leave a Comment

Required fields are marked *