Insights into simplifying train travel

راجستھان کی جنگلی حیات کی پناہ گاہوں کا دورہ ضرور کیجئے 5

زمینوں کا بادشاہ ‘راجستھان’ حویلیوں، قلعوں، عجائب گھروں اور ریگستانی سفاری کے لئے مشہور ہے، لیکن یہ ناپید ہونے والے جانوروں کے لئے ایک گھر بھی ہے. راجپوتوں کے اس زمین میں بہت سارے جنگلی جانوروں کی پناہ گاہوں اور قومی پارک بھی ہیں.

Ranthambore National Park

رنتھمبور نیشنل پارک، سوائی مادھو پور: کو 1980میں بطور نیشنل پارک نامزد کیا گیا، یہ مختلف جانوروں جیسے شیر، چیتا، نیل گائے اور ہرنوں کو ان کے قدرتی انداز میں دیکھنے کے لئے بہترین مقامات میں سے ایک ہے. ہر کسی کو مچھلی کا دورہ ضرور کرنا چاہئے، یہ ایک ایسی شیرنی ہے جو ہر سیاح کے توجہ کا مرکز ہوتی ہے اسی طرح جنگلی جانوروں کی فوٹوگرافی کرنے والے لوگوں کے نزدیک بھی محبوب اور پسندیدہ ہے. اس نے ایک مرتبہ 10 فٹ لمبے مگرمچھ کو مار ڈالا تھا اور اس طرح اس نے ہمیشہ کے لئے سب سے بڑے “مگرمچھ قاتل” کا اعجاز اپنے نام کر لیا.

Sariska National Park

 سوائی مادھو پور زیر تعمیر ریلوے کے سب سے قریب ہے.

سرسکا نیشنل پارک، الور: سرسکا دنیا کا پہلا ایسا نیشنل پارک ہے جس میں شیروں کو دوسری جگہ سے منتقل کیا گیا ہے. سال 2005 میں، حکّام جنگلات کو پتہ چلا کہ یہاں شیر ذخیرے میں نہیں ہیں تو بہت سارے شیروں کو دنیا کے دوسرے ملکوں سے لایا گیا. فی الحال سرسکا میں تقریبا 14 شیر ہیں. اسی طرح آپ وہاں نادر چڑیوں کی جاتیوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں جیسے سفید گلے والی رام چڑیا اور ہندوستانی بڑا الو.

Darrah National Park

 الور زیر تعمیر ریلوے سے سب سے قریب سٹیشن ہے جو 36 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے 

درہ نیشنل پارک، کوٹہ: درہ جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ، چمبل جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ، جسونت ساگر جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ یہ تمام کے تمام خوب صورت درہ جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ میں شامل ہیں. درہ نیشنل پارک بننے سے پہلے، اس کو کوٹہ کے مہاراجہ شکار کے لئے استمعال کیا کرتے تھے. یہاں کے جنگللاتی حیات کے اقسام میں جنگلی سؤر، ہرن، بھیڑیاں اور پینتھرز وغیرہ بھی شامل ہے. اسی طرح یہاں دریائے چندرابھاگا کے کنارے ساتویں اور آٹھویں صدی کے خوبصورت مندر بھی ہیں.

Mount Abu Sanctuary

جانوروں کے پناہگاہ سے سب سے قریب کوٹہ ہے جو 50 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے.

ماونٹ ابو جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ: ماونٹ ابو میں 250 سے زیادہ چڑیوں کی جاتیاں، سرمئی جنگلی الو، چیتے، لنگور، ہناس، (پارکوپائن ) کترنے والا جانوراور جنگلی چوہوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے. راجستھان میں ٹریکرس کیلئے یہ سب سے زیادہ مناسب جگہ ہے.

Sita Mata Wildlife Sanctuary

 جانوروں کے پناہگاہ ابو روڈ سے 25 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے. 

سیتا ماتا جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ، پڑتاپ گڑھ: یہ محفوظ پناہ گاہ “اڑنے والی گلہری” کا گھر ہے. اڑنے والی گلہری کو دیکھنے کا بہترین وقت فروری اور مارچ کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے جب خوب مہوا کے پتے گرتے ہیں. یہاں 130 اقسام کی چڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں بشمول چوٹی بے دم مرغابی، بھورا چیل، لال آبی پرندہ اور کلغی دار گانے والا پرندہ (Crested Lark) کے.

ادے پور اسٹیشن اس جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ سے سب سے قریب ریلوے ہے.

Originally written by Puneet Sharma. Read here.


Leave a Comment

Required fields are marked *