Insights into simplifying train travel

ریل روٹ پر خراب سے خراب چائے مزہ لیں

Blog Post_ रेल रूट पर मज़ा ले ख़राब से ख़राब चाय का

ریل یاتری ڈاٹ اِن کا حصہ ہونے کی وجہ سے آئے دن ٹرین سے ملک کے مختلف گوشوں کا ریل سفر کرنا میرا اہم کام ہے۔ اپنے انہی بے شمار دوروں میں مجھے ملک کے مختلف حصوں سے منسلک متعدد عجیب و غریب لیکن دلچسپ معلومات، قصے کہانیاں جاننے، سننے کا موقع ملتا ہے. ہر قصہ، کہانی، جانکاری كم وبیش ایک دوسرے سے مختلف لیکن تفریحی اور کافی دلچسپ ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک دلچسپ تجربہ کو آپ کے ساتھ اشتراک کر رہا ہوں۔

ذرا سوچئے کہ ریل میں سفر کے دوران اگر آپ کو كوئی چائے والا هاكراپنی چائے کو خراب سے خراب بتا کر فروخت کرتا ہوا ملے تو آپ کی پہلی رائے کیا ہوگی؟ ظاہر ہے، آپ بھی میری طرح الجھن میں پڑ جائیں گے اور اس چائے کو پینے کے بارے میں سوچیں گے بھی نہیں۔ میری الجھن تب اور زیادہ بڑھ گئی جب میں نے اپنے ساتھ سفر کر رہے لوگوں کو اُس سے ہاتھوں ہاتھ چائے کا پیالہ خریدتے دیکھا۔ گویا ان لوگوں کو اسی خراب چائے کی طلب تھی۔

خراب چائے کی اچھی خاصی مانگ کو دیکھ جلد ہی میری الجھن ایک تجسس میں بدل گئی۔ اپنے تجسس کو دورکرنے کے لئے جھجھکتے ہوئے میں نے اپنے ساتھ سفر کر رہے مسافروں سے خراب چائے کا راز جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ ٹاٹانگر سے رائول کیلا ریل روٹ پر آنے والے كئی ریلوے اسٹیشن پر چائے فروخت کرنے والے هاكرس کی یہ منفرد مارکیٹنگ اسٹریٹجی ہے، جس میں یہ اپنی اچھی بھلی چائے کے خراب ہونے کا عوامی دعوی کر مسافروں کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بعد میں یہی مارکیٹنگ اسٹریٹجی بہار کے كیول ریلوے اسٹیشن کے چائے والے هاكرس کے بارے میں بھی سننے کو ملی۔ وہاں سے بھی اس خراب چائے کی اچھی خاصی مانگ کے بارے میں پتہ چلا۔

ممکن ہے کہ اگلی بار ریل سے سفر کے دوران کسی ریلوے اسٹیشن پر آپ کو بھی ‘چائے گرم … گرم چائے … ..’ کی جگہ ‘خراب سے خراب چائے’ کی گونج سننے کو ملے تو بغیر ہچکچاہٹ آپ اس چائے والے سے چائے لے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ بزنس مارکیٹنگ کا نیا طریقہ ہے ان کی چائے عام طور پرخراب نہیں ہوتی۔ آہستہ آہستہ یہ طریقہ بھارت کے تمام چھوٹے بڑے ریلوے روٹ پر کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اکثر آنے جانے والے مسافر اس چائے کے شوقین ہوتے ہیں اور اس خراب چائے کا بے صبری سے انتظار کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر آپ کو واقعی اس چائے کا ذائقہ خراب لگے تو اس کے ذمہ دار آپ خود ہی ہوں گے کیونکہ هاكر نے تو آپ کو اس کے بارے میں پہلے ہی عوامی اعلان کر بتا دیا تھا۔ سچ مچ ان چائے والوں کی یہ منفرد مارکیٹنگ اسٹریٹجی قابل تعریف ہے۔ باقی چائے کا ذائقہ آپ خود چکھ کر طے کریں کہ وہ واقعی خراب ہے یا صرف نام کی۔


Leave a Comment

Required fields are marked *